نئی دہلی:28/جولائی(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)راہل گاندھی، مایاوتی اور ممتا بنرجی وہ تین نام ہیں جو 2019 میں مودی کے خلاف اپوزیشن کی صفوں کی جانب سے وزیر اعظم کے عہدے کے لئے جا رہے ہیں لیکن ان تین چہروں میں ہی اتحادقائم ہوتا ہوا نظر نہیں آرہا ہے۔ راہل گاندھی چاہتے ہیں کہ ممتا یا مایاوتی کے چہرے پر داؤ لگایا جائے اور کانگریس کے لیڈر اس کو لے کر تیار بھی ہیں۔ اگرچہ دلت لیڈر اور قومی شناخت ہونے کی وجہ سے مایاوتی اس دوڑ میں سب سے آگے نظر آرہی ہیں۔ یوپی میں سی ایم کی کرسی کے دعویدار اور سماج وادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو تو مایاوتی کے نام پر تیار بھی ہو چکے ہیں اور پارٹی کھل کر مایاوتی کا نام آگے بڑھا چکی ہے۔ جمعرات کو این سی پی سربراہ شرد پوار نے بھی مایاوتی سے ملاقات کی اور تصویر ٹویٹر پر پوسٹ کرتے ہوئے لکھا کہ اچھی بات چیت ہوئی تھی۔ اس کا مطلب یہ نکلتا ہے کہ وزیر اعظم کی امیدواری کے لئے مایاوتی کے نام پر شرد پوار بھی تیار ہیں۔ اپوزیشن خیمے کی پارٹیاں جیسے کرناٹک کی جے ڈی ایس ،ہریانہ کی آئی این ایل ڈی اور بہار کی آر جے ڈی کو مایاوتی کے نام پر دقت نہیں ہوگی۔ لیکن اب ممتا بنرجی کی پارٹی ٹی ایم سی(ترنمول کانگریس ) نے اصلی داؤ اب کھیلا ہے ۔ تین دن پہلے ہی پارٹی کے ایم پی او برائن نے کہا تھا کہ 2018۔19 وفاقی طریقے سے سوچنے کا سال ہے اور علاقائی پارٹیاں مرکز میں اہم کردار ادا کریں گی۔ وزیر اعظم کے عہدے کی دوڑ میں ممتا کے اہم دعویدار کے طور پر ابھر کر سامنے آنے میں کچھ بھی نیا نہیں ہے۔ یعنی تیزی سے چل رہی مایاوتی کے نام کی بحث والی گاڑی کے راستے میں ممتا کا نام پیش کر ٹی ایم سی نے روڑا اٹکا دیا ہے۔ممتا بنرجی جانتی ہیں کہ مایاوتی کے پاس اگرچہ ایک نشست بھی نہیں لیکن قومی سیاست کے لحاظ سے ان کا قد بڑا ہے؛ لہٰذا ممتا نے فورا کہا ہے کہ بی جے پی مخالف تمام پارٹیوں کو ساتھ آنا چاہئے اور ملک کے لئے قربانی کرنا چاہئے۔ ہمیں تقسیم کرنے والا کوئی نام کا انتخاب نہ کرنا چاہیے ۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ ممتا نہیں چاہتی ہیں کہ انتخابات سے پہلے اپوزیشن کی صفوں میں کسی نام پر مہر لگے۔